#urdu

20 posts loaded — scroll for more

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو

سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو


جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں

شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو


صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا

جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو


اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر

ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو


جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر

چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو


جاں نثار اختر

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

تیرے معصوم سوالات سے ڈر لگتا ہے

زندگی تیری عنایات سے ڈر لگتا ہے


پہلے حالات بدلنے کی بڑی حسرت تھی

اب بدلتے ہوئے حالات سے ڈر لگتا ہے


جیسے ہوتے ہیں زمانے میں وسائل تقسیم

ایسے اسلوب ِ مساوات سے ڈر لگتا ہے


جب سے قائم ہے مشینوں کی حکومت دل پر

تب سے انسان کو جذبات سے ڈر لگتا ہے


غیر پھر غیر ہیں جیسا بھی رویہ برتیں

اب تو اپنوں کی مدارات سے ڈر لگتا ہے


میرے اندر ہے مرا کوئی مخالف شائد

مجھ کو اپنی ہی کسی بات سے ڈر لگتا ہے


خواب سے ، درد سے احساس سے تنہائی سے

عشق کی ساری خرافات سے ڈر لگتا ہے


یوں نہیں ہے کہ چراغوں میں کوئی بات نہیں

بات یوں ہے کہ انہیں رات سے ڈر لگتا ہے


ڈاکٹر احمد خلیل

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

میں خود سے محبت کا ارادہ نہیں کرتا

کیونکہ میں کوئی کام بھی آدھا نہیں کرتا


اک بار ہی کہتے ہیں یہ فطرت ہے ہماری

گر مانے نہ تو پھر میں اعادہ نہیں کرتا


ہم بارِ محبت بھی اُٹھاتے ہیں خودی سے

میں بوجھ کسی دوجے پہ لادا نہیں کرتا


پہچان سکو گے نہ کبھی پیار کو میرے

میں کام کبھی کوئی بھی سادہ نہیں کرتا


مجھ کو نہ کہے کوئی بہت بے وفا تھا وہ

اس واسطے تو یار میں وعدہ نہیں کرتا


پاکیزہ محبت ہے مرے دل میں اے جاناں

خواہش میں غلط کوئی مبادا نہیں کرتا


دیکھو نہ ہمیں چھیڑو ذرا دور رہو تم

مے سے کبھی انکار یہ بادہ نہیں کرتا


سید محتشم رضا

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

زندگی تو نے لہو لے کے دیا کچھ بھی نہیں

تیرے دامن میں مرے واسطے کیا کچھ بھی نہیں


آپ ان ہاتھوں کی چاہیں تو تلاشی لے لیں

میرے ہاتھوں میں لکیروں کے سوا کچھ بھی نہیں


یا خدا اب کے یہ کس رنگ میں آئی ہے بہار

زرد ہی زرد ہے پیڑوں پہ ہرا کچھ بھی نہیں


دل بھی اک ضد پہ اڑا ہے کسی بچے کی طرح

یا تو سب کچھ ہی اسے چاہئے یا کچھ بھی نہیں


راجیش ریڈی

Text
teri-rah-mein
teri-rah-mein

Jhoothi (2020)

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

روگ ایسے بھی غم یار سے لگ جاتے ہیں

در سے اٹھتے ہیں تو دیوار سے لگ جاتے ہیں


عشق آغاز میں ہلکی سی خلش رکھتا ہے

بعد میں سیکڑوں آزار سے لگ جاتے ہیں


پہلے پہلے ہوس اک آدھ دکاں کھولتی ہے

پھر تو بازار کے بازار سے لگ جاتے ہیں


بے بسی بھی کبھی قربت کا سبب بنتی ہے

رو نہ پائیں تو گلے یار سے لگ جاتے ہیں


کترنیں غم کی جو گلیوں میں اڑی پھرتی ہیں

گھر میں لے آؤ تو انبار سے لگ جاتے ہیں


داغ دامن کے ہوں دل کے ہوں کہ چہرے کے فرازؔ

کچھ نشاں عمر کی رفتار سے لگ جاتے ہیں


احمد فراز

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

مکیں سے کہنے لگا اک مکاں کا سناٹا

ہے تیرے دم سے سلامت یہاں کا سناٹا


بہار اپنی حقیقت سے آشنا ہی نہیں

شجر کے ساتھ کھڑا ہے خزاں کا سناٹا


ہجومِ رنگ میں اب یاد بھی نہیں آتا

کہ دل کو کھینچ رہا ہے کہاں کا سناٹا


عجیب حال ہے آنکھوں کا سیلِ اشک کے بعد

ہو جیسے دشت میں آبِ رواں کا سناٹا


تھمی جو شورشِ باراں تو یہ ہوا معلوم

زمیں پہ پھیل گیا آسماں کا سناٹا


نجانے کون سی جانب نکل گیے طایر

چہک رہا ہے بہت آشیاں کا سناٹا


وہ کون ہے جو مراسم کی رونقوں میں رضی

اتارتا ہے زباں پر بیاں کا سناٹا


- رضی حیدر

Text
aiklahori
aiklahori
Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

گھر بنانا چاہتا ہوں میرا گھر کوئی نہیں

دامنِ کہسار میں یا ساحلِ دریا کے پاس


اونچی اونچی چوٹیوں پر سرحدِ صحرا کے پاس

متفق آبادیوں میں، وُسعتِ تنہا کے پاس


روزِ روشن کے کنارے یا شبِ یلدا کے پاس

اس پریشانی میں میرا راہبر کوئی نہیں


خواہشیں ہی خواہشیں ہیں اور ہنر کوئی نہیں

گھر بنانا چاہتا ہوں میرا گھر کوئی نہیں


— منیر نیازی

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

خوشبو کے ساتھ اس کی رفاقت عجیب تھی

لمس ہوائے شام کی راحت عجیب تھی


لپٹا ہوا تھا ذہن سے اک کاسنی خیال

اترا تو جان و جسم کی رنگت عجیب تھی


ملنے کی آرزو، نہ بچھڑنے کا کچھ ملال

ہم کو اس آدمی سے محبت عجیب تھی


آنکھیں ستارہ ساز تھیں باتیں کرشمہ ساز

اس یار سادہ رو کی طبیعت عجیب تھی


نوشی گیلانی

.

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

میری ساری دعائیں تم سے ھی منسوب ھیں جاناں

محبت ھو اگر سچی دعائیں کب بدلتی ھیں

“ کوئی پا کر نبھاتا ھے, کوئی کھو کر نبھاتا ھے

نئے انداز ھوتے ھیں, وفائیں کب بدلتی ھیں ”


نوشی گیلانی

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

لاکھ ضبطِ خواہش کے

بے شمار دعوے ہوں

اس کو بھول جانے کے

بے پناہ ارادے ہوں

اس محبت کو ترک کر کے جینے کا

فیصلہ سنانے کو

کتنے لفظ سوچے ہوں


پر دل کو اس کی آہٹ پہ

برملا دھڑکنے سے

کون روک سکتا ہے؟


نوشی گیلانی

Text
mainyahaankyunhoon
mainyahaankyunhoon

“Ye na thi humari kismat” by mirza ghalib and sung by Tina sani is such a treat. Currently in the library crying instead of studying.

I pity the people who don’t know urdu, and don’t understand Indian classical music.

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

مجھ کو شاید ہرا بھرا کر دے

تیری آواز معجزہ کر دے


جینے والوں کو تُو نہیں مطلوب

مرنے والوں کا فائدہ کر دے


اُس کی نظروں میں آ چکا ہوں میں

کیا پتا مجھ کو کیا سے کیا کر دے


راج چلتا ہے اُس کی آنکھوں کا

وہ جسے چاہے سر پھرا کر دے


عشق کا لطف ہی نہیں آتا

عشق جب تک نہ باولا کر دے


میں اگر تیرے کام کا ہی نہیں

پھر مجھے میرے کام کا کر دے


یار ! انکار تھوڑی کرتا ہوں

جو بھی غم دے ! مجھے بتا کر دے


یہ مری قید کا تقاضا ہے

ہر رہائی سے اب رہا کر دے


ابتدا ہے یہی تغافل کی

بس توجہ کی انتہا کر دے


زین کیوں ساتھ رکھ لیا ہے اُسے ؟

جو جدا ہو گیا ! جدا کر دے !


- زین شکیل

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی


مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو

سجدوں میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی


ہم خاک نشینوں سے ہی کیوں کرتے ہیں نفرت

کیا پردہ نشینوں میں غلاظت نہیں ہوتی


یہ بات نئی نسل کو سمجھانا پڑے گی

عریانی کبھی بھی ثقافت نہیں ہوتی


ہر شخص سر پر کفن باندھ کے نکلے

حق کے لیے لڑنا تو بغاوت نہیں ہوتی


حبیب جالب

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

فرنگی کا جو میں دربان ہوتا

تو جینا کس قدر آسان ہوتا

میرے بیٹے بھی امریکا میں پڑھتے

میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا

مری انگلش بلا کی چست ہوتی

بلا سے جو نہ اردو دان ہوتا

جھکا کے سر کو جو ہو جاتا سر میں

تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا

زمینیں مری ہر صوبے میں ہوتیں

میں واللہ صدر پاکستان ہوتا


حبیب جالب

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے

دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے


خامشی پر ہیں لوگ زیر عتاب

اور ہم نے تو بات بھی کی ہے


مطمئن ہے ضمیر تو اپنا

بات ساری ضمیر ہی کی ہے


اپنی تو داستاں ہے بس اتنی

غم اٹھائے ہیں شاعری کی ہے


اب نظر میں نہیں ہے

ایک ہی پھول

فکر ہم کو کلی کلی کی ہے


پاسکیں گے نہ عمر بھر جس کو

جستجو آج بھی اسی کی ہے


جب مہ و مہر بجھ گئے جالبؔ

ہم نے اشکوں سےروشنی کی ہے


حبیب جالب

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

جی نہ چاہا اُسے بھلانے کو

اک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو


اک ستارہ مژہ پہ روشن ہے

اک دیا رہ گیا بجھانے کو


ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمی

پھول بالو ں میں اک سجانے کو


ریزہ ریزہ بکھر گیا انساں

گھر کی ویرانیاں جتانے کو


آنسوؤں کو ترس گئیں آنکھیں

لوگ ہنستے رہے دکھانے کو


سانس کی بات ہو کہ آس اداؔ

سب کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو


ادا جعفری

Text
my-urdu-soul
my-urdu-soul

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہے

مطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے


رک رک کے ساز چھیڑ کہ دل مطمئن نہیں

تھم تھم کے مے پلا کہ طبیعت اداس ہے


چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنی

اے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے


مجھ سے نظر نہ پھیر کہ برہم ہے زندگی

مجھ سے نظر ملا کہ طبیعت اداس ہے


شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحال

اے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے


ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگی

رخ سے نقاب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے


میں نے کبھی یہ ضد تو نہیں کی پر آج شب

اے مہ جبیں نہ جا کہ طبیعت اداس ہے


امشب گریز و رم کا نہیں ہے کوئی محل

آغوش میں در آ کہ طبیعت اداس ہے


کیفیت سکوت سے بڑھتا ہے اور غم

قصہ کوئی سنا کہ طبیعت اداس ہے


یوں ہی درست ہوگی طبیعت تری عدمؔ

کمبخت بھول جا کہ طبیعت اداس ہے


توبہ تو کر چکا ہوں مگر پھر بھی اے عدمؔ

تھوڑا سا زہر لا کہ طبیعت اداس ہے

عبد الحمید عدم

Text
urdu-poetry-lover
urdu-poetry-lover

آ جا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا​

آ جا کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ہے​


خوشبو کے جزیروں سے ستاروں کی حدوں تک​

اس شہر میں سب کچھ ہے بس اک تری کمی ہے​